بھٹکل 27؍فروری (ایس او نیوز)پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے تعلق سے بھی پر اعتماد ہوگئی ہے۔کیونکہ 2017میں یوپی اسمبلی انتخابات سے ذرا قبل پاک مقبوضہ کشمیر کی سرحدپرُ یوری میں’سرجیکل اسٹرائک‘ کیا گیا تھااور اس کی وجہ سے بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو اُس وقت بڑا سہارا ملاتھا۔اور اب لوک سبھا انتخابات سے چند ہی مہینے پہلے ’فضائی اسٹرائک‘ کیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ انتخابی نقطۂ نظر سے اس کا راستہ بالکل صاف ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے 27فروری بدھ کے دن اپنے قریبی حلیفوں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ نئے منظر نامے میں پارلیمانی الیکشن جیتنے کے تعلق سے امکانات اور وسائل پر کھل کرگفتگو کرتے ہوئے منصوبے بنائے جائیں۔دوسری طرف پاکستانی سرزمین پر فضائی حملے کی تفصیلات عام ہوتے ہی بی جے پی کی طرف سے ’کمل جیوتی‘ مہم بھی شروع کردی گئی ہے تاکہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔
بی جے پی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ’’سال 2017کے یو پی اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے مہاگٹھ بندھن کے مقابلے میں بی جے پی کو شکست ہونے کے پورے امکانات دکھائی دے رہے تھے۔لیکن سیاسی پنڈت اُس وقت 26دسمبر 2016کو کیے گئے ’ سرجیکل اسٹرائک‘سے پیدا ہونے والی انتخابی زیریں لہروں کو سمجھنے میں ناکام تھے۔اور اب پاکستان کے اندرونی علاقے میں گھس کر جوتازہ فضائی حملہ کیا گیا ہے اس سے وزیراعظم نریندرا مودی کی حمایت میں بہت ہی بڑی اور تیز زیریں لہریں دوڑنے لگی ہیں۔‘‘
سیاسی تجزیہ نگاروں کا احساس ہے کہ اس تازہ حملے کے بعدبی جے پی کے لئے یو پی اور بہار میں ذات اور طبقات کی بنیاد پر بنے مہاگٹھ بندھن کے سامنے قومیت کاجذبہ ابھارتے ہوئے اور ’مودی کی طاقتور و فیصلہ کن قیادت ‘ کے نام پرمقابلہ کرنا بالکل آسان ہوجائے گا۔وزیر اعظم مودی خود بھی اپنی حالیہ تقریروں میں دہشت گردی کے خلاف سخت ترین موقف اور اقدامات کی باتیں زور و شور سے کررہے ہیں۔اب چونکہ ہرایک ہندوستانی کی زبان پر فضائی حملہ اور اس کے اثرات کا ہی چرچا ہے تو بی جے پی خود سمجھنے لگی ہے کہ بے روزگاری اور زراعتی مسائل وغیرہ جو کہ اس کے لئے دردِ سر بنے ہوئے تھے وہ سب اب پیچھے چلے گئے ہیں اورانتخابات کے لئے اب وہ رکاوٹ پیداکرنے والے مسائل نہیں رہیں گے۔